ٹماٹر
ٹماٹر ہر گھر کی ضرورت ہے اور خاصہ مہنگا بھی۔ خاص طور پہ رمضاں، عید اور دیگر خاص موقعوں پر تو اس کی قیمتیں آسمان پہ اور دستیابی مشکل۔ اس کے علاوہ جو ٹماٹر ملتا ہے اس پر کتنے زہر استعمال ہوتے ہیں یہ سب جانتے ہیں اور جب وہ ٹھیلے پہ ہوتا ہے تو آلودہ پانی سے دھل کر صاف ستھرا لگتا ہے مگر اس کے ساتھ کتنی بیماریاں گھر میں آتی ہیں شاید یہ کم ہی لوگ سوچتے ہیں۔
ان سب باتوں کا بہترین حل یہ ہے کہ دیگر سبزیاں اور ٹماٹر گھروں میں اگائے جائیں۔ اسطرح صاف ستھرے، سستے اور تازہ ٹماٹر گھر بیٹھے حاصل ہونگے۔ ٹماٹر ان سبزیوں میں سے ہے جو آپ باسانی اگا سکتے ہیں۔ اسے گملے میں بھی بہت عمدگی سے اگایا جا سکتا ہے۔ آپ کے گھر میں جتنے لوگ ہیں اگر آپ اتنے ٹماٹر کے پودے لگائیں تو شاید کبھی آپ کو بازار سے خریدنے کی نوبت نہ آئے۔ اس میں شک نہیں کہ زمین میں اگانے کے مقابلے میں گملے میں اس کی قدرے زیادہ دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے تاہم اگر اسکی مناسب خاطر تواضع کی جائے تو یہ آپ کیلئے دل و جان سے خوب پھلے پھولے گا۔
ٹماٹر ان پودوں میں سے ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں پہلے چھوٹے کپ میں اگایا جائے اور پھر جیسے جیسے یہ بڑے ہوں انہیں بڑے کپ اور بعد میں گملے یا گارڈن میں منتقل کریں۔ ٹماٹر کے بیج سیڈ ٹرے میں اگا سکتے ہیں۔ اگر سیڈ ٹرے دستیاب نہیں تو انہیں ڈسپوزبل کپ یا گلاس، منرل واٹر اور سوفٹ ڈرنک کی چھوٹی بوتل کو آدھا کاٹ کر اس میں بھی اگا سکتے ہیں۔ بیج کی بہتر نشونما کیلئے مٹی کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ مٹی ایسی ہو جس میں پانی کی نمی برقرار رہے اور اس میں پودے کی بڑھوتری کیلئے ضروری غذائی اجزا بھی شامل ہوں۔ ایسی مٹی کیلئے سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ کمپوسٹ اور ریت کا مکسچر بنایا جائے۔ چکنی مٹی جو ہمارے ہاں ہر جگہ دستیاب ہے قطعاً مناسب نہیں کیونکہ ننھے پودوں کیلئے ایسی مٹی میں اپنی جڑیں پھیلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور آپکے پودے چھوٹے رہیں گے اور پیداوار بھی کم دیں گے۔
بیج کو آپ گھر کے اندر اگا سکتے ہیں اسطرح بیج اور ننھے پودوں کی دیکھ بھال آسان ہوگی۔ اچھی کوالٹی کا بیج خریدیں اور بیج پر تاریخ چیک کریں اگر وہ پرانے ہوں تو ھرگز نہ لیں۔ اگر آپ سیڈ ٹرے استعمال کر رہے ہیں تو اس میں پہلے ہی سوراخ ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ڈسپوزبل کپ، بوتل یا کوئی اور برتن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں مٹی بھرنے سے پہلے پیندے میں اچھی طرح سوراخ کرلیں۔ کپ میں آدھے سے زیادہ مٹی ڈالکر بیج اس کے اوپر رکھ دیں اور پھر تھوڑی سی مٹی بیج کے اوپر ڈالکر ڈھک دیں۔ ایک کپ میں ایک سے زیادہ بیج بھی ڈال سکتے ہیں تاہم اگر کپس کی تعداد ضرورت سے دگنا رکھیں تو ایک کپ میں ایک بیج رکھنا مناسب ہوگا۔ بیج بونے کے بعد انہیں روزانہ فوارے سے اسطرح پانی دیتے رہیں کہ بیجوں کے گرد مناسب نمی رہے لیکن وہ پانی میں ڈوبنے نہ پائیں۔ اگر بیجوں کو آپ بہار کی آمد سے ۶ سے ۸ ہفتے پہلے سے بوئیں تو آپ بہار آتے ہی انہیں گملوں میں لگا سکتے ہیں اور اس طرح سیزن کے شروع سے ہی آپکو تازہ اور صحتمند ٹماٹر دستیاب ہونگے جنہیں آپ سارا سیزن توڑتے رہیں۔
سیڈ ٹرے یا کپس کو روشن، گرم اور ہوادار جگہ پر رکھیں، ٹماٹر کیلئے مناسب درجہ حرارت ۲۱ سے ۲۷ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ ٹماٹر کے ننھے پودے مناسب ٹیمپریچر میں ایک ہفتے کے اندر بیج سے نکل آتے ہیں۔ ننھے پودوں کو جہاں دھوپ پڑتی ہو وہاں رکھیں، دھوپ ان پر سیدھی سیدھی پڑے تو زیادہ بہتر اگیں گے۔ انہیں گرو لائیٹ کے نیچے بھی رکھ سکتے ہیں۔ ننھے پودوں کو ضرورت کے مطابق پانی اور ہر ہفتہ کھاد دیتے رہیں تاکہ وہ اچھی طرح بڑھتے رہیں گے۔
ٹماٹر منتقل کرنے کیلئے زمیں یا گملے کی تیاری:۔
ٹماٹر کے پودے جب ایک بالشت سے بڑے ہوجائیں تو وہ منتقلی کیلئے تیار ہیں۔ ٹماٹر کو آپ ایک سے زیادہ دفعہ بھی ٹرانسپلانٹ کر سکتے ہیں، جیسے چھوٹے کپ سے، بڑے کپ اور پھر گملے میں۔ انہیں مکمل کھلی جگہ منتقل کرنے سے پہلے سایہ دار جگہ میں رکھیں اور آہستہ آہستہ دھوپ میں رہنے کی عادت ڈالیں اور چند دن بعد انہیں مکمل دھوپ میں رکھیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انہیں گملے یا گارڈن میں منتقل کرسکتے ہیں۔ پودے کو آپ گملے میں منتقل کریں یا زمین میں، اس کی بہتر پیداوار کیلئے ضروری ہے کہ اسے اچھی مٹی میں لگایا جائے۔ جس مٹی میں پودے لگائیں اس میں کمپوسٹ، رسوبی یا بالو مٹی اور ریت برابر شامل کریں۔ اگر رسوبی مٹی دستیاب نہیں تو کمپوسٹ اور ریت برابر شامل کریں۔ اگر زمین میں لگا رہے ہیں تو تقریباً ۲ فٹ گہرا اور ایک سے ڈیڑھ فٹ چوڑا گڑھا کھودیں اور اس گڑھے کو پودے کیلئے تیار کردہ مٹی سے بھردیں۔
ٹماٹر کے پودے کو تقریباً تین چوتھائی مٹی کے اندر دھنسانا چاہئے اسطرح ٹماٹر کے تنے پر موجود باریک بال جڑوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور یہ پودے کیلئے مضبوطی، اور خوراک اور پانی کے حصول میں معاون بنتے ہیں۔ مٹی میں ڈالنے سے پہلے نیچے کی شاخیں اور پتے کاٹ لینے چاہئیں۔ پودے کو منتقل کرنے کے بعد اس میں فرٹیلائیزر ڈالیں اور پھر پانی سے سیراب کریں یا فرٹیلائیزر ملے پانی سے سیراب کریں۔
پانی، کھاد اور موسمی ضروریات:۔
ضروری ہے کہ ٹماٹر کی پانی اور خوراک (فرٹیلائیزر یا نیوٹریئینٹ یا کھاد) کا مناسب خیال رکھا جائے۔ اگر پودہ گملے میں منتقل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے کم از کم پلاسٹک کی عام بالٹی یا اس سائیز کا گملا منتخب کریں، اگر بڑا ہے تو زیادہ بہتر۔ بالٹی یا گملے کے پیندے میں ایک سے دو مربع انچ کا سوراخ کرنا چاہئے۔
ٹماٹر کا پودا جب چھوٹا ہو تو زیادہ نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے لیکن جب پھول آنے لگیں تو زیادہ پوٹاش اور فاسفورس والی کھاد دینی چاہیے۔ پودے جب زمین میں ہوتے ہیں تو اپنی غذائی ضروریات ارد گرد کی مٹی سے حاصل کرلیتے ہیں اسلئے انہیں کھاد کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی تاہم گملوں میں پودوں کو ہر ہفتے یا دس دن میں کھاد دینی چاہئے تاکہ پودے کی گروتھ اور پیداوار متاثر نہ ہو۔ چھوٹے پودوں کو چٹکی بھر جبکہ بڑے پودوں کو تقریباً ایک چمچ کھاد ہر دفعہ ڈالنی چاہئے۔ باغیچے میں بھی ٹماٹر کو بضرورت کھاد ڈالنی چاہئے۔ اگر گرمی ۳۰ سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے تو گملے میں روزانہ پانی ڈالیں اور زمین میں لگے پودوں کی بھی پانی کی ضروریات کا دھیان رکھیں اور ہر ہفتے یا دس دن میں فرٹیلائیزر بھی ڈالیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے پودوں کو مرجھانے نہ دیں اگر پودے بار بار مرجھائیں گے تو ان کی پیداوار متاثر ہوگی۔ پودوں کی جڑوں میں نمی برقرار رکھنے اور جڑی بوٹیوں سے بچنے کیلئے ملچنگ کریں، یعنی پودے کے اردگرد کی مٹی کو لکڑیوں کے تنکوں، گھاس پھوس، گتے یا کسی اور چیز سے ڈھک دیں۔
ٹماٹر کے پودے کو مکمل دھوپ میں رکھیں اور جب ٹماٹر پکنے لگیں تو انہیں توڑ لیں اور پورا لال ہونے کا انتظار مت کریں، (ایسے ٹماٹروں کو کمرے میں گرم جگہ رکھیں یہ خود سے پک جائیں گے)۔ اسطرح پودوں کی تونائی مزید پھل پیدا کرنے میں صرف ہوگی۔
بیماریاں:۔
ٹماٹر ایک نازک پودا ہے اسلئے اسکی صحت و سلامتی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ٹماٹر پر کئی چیزیں حملہ آور ہوتی ہیں۔ ٹماٹر کو پتے اور پھل کھانے والے کیڑے کٹ ورم یا سنڈی سے بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر اسطرح کے کیڑے یا بغیر چھلکے کے گھونگھے دیکھیں تو انہیں فوراً پکڑ کر تلف کردیں۔ اگر کوئی اور قسم کے اڑنے والے حشرات کا سامنا ہو تو انہیں پانی کے تیز اسپرے سے بھگا دیں۔ اس سلسلے میں گھریلو نسخے جیسے نیم کا عرق، مرچوں اور لہسن کے اسپرے وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کچھ پودوں میں ٹماٹر کی نیچے والی سائیڈ کالی ہوکر اندر کی طرف دھنس جاتی ہے، یہ ایک غذائی بیماری ہے جو کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایسے پودوں کو کیلشیم کا اسپرے کرنا چاہئے جیسے کیلشیم کلورائیڈ یا کیلشیم نائٹریٹ۔ اس کام کیلئے انڈوں کے چھلکوں کا باریک پائوڈر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کی خاصی مقدار اس کام کیلئے درکار ہوگی۔ کچھ پودوں میں ٹماٹر پھٹ جاتے ہیں، اسکی وجہ پانی کی کمی بیشی ہے، اسلئے پانی کی مقدار متواتر رکھیں۔

No comments:
Post a Comment