مرچ اگانا آسان ہے
مرچ ان پودوں میں سے ہے جو ہر جگہ باآسانی اگایا جاسکتا ہے۔ زمیں ہو یا گملا عام طور پہ اسے زیادہ خاطر تواضع کی ضرورت نہیں ہوتی کہ یہ ایک سخت جان پودہ ہے۔ زمین میں اگانے کے مقابلے میں گملے میں اس کے قدرے زیادہ دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے تاہم اسے گملے میں لگانے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ دو سے تین سال تک آپ کو پھل دیتا رہے گا، بس شرط یہ ہے کہ اسے سخت سردی سے بچاتے رہیں باقی گرمی یہ خود سے جھیل لے گا۔
مرچ اگانا آسان ہے، اس کے بیج سیڈ ٹرے کے علاوہ کسی ڈسپوزبل کپ یا گلاس، یا منرل واٹر اور سوفٹ ڈرنک کی چھوٹی بوتل کو آدھا کاٹ کر اگا سکتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ اسے کمپوسٹ اور ریت کے مکسچر میں اگائیں۔ اگر مٹی چکنی ہوگی تو ننھے پودوں کیلئے اپنی جڑیں پھیلانا مشکل ہوگا۔ بیج اگر گھر کے اندر اگائیں تو زیادہ بہتر ہے لیکن انہیں روشن، گرم اور ہوادار جگہ پر رکھیں، اگر دھوپ ان پر سیدھی سیدھی پڑے تو اور بہتر۔ گھر کے اندر اگانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ سرد موسم میں بھی انہیں اگا سکتے ہیں۔ مرچ کیلئے مناسب درجہ حرارت ۱۸ سے ۲۵ ڈگری سینٹی گریڈ ہے یعنی انہیں عام روم ٹیمپریچر پر اگایا جا سکتا ہے۔
بہتر پیداوار کیلئے دیگر باتوں کے علاوہ بیج کا اچھی کوالٹی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کپ میں آدھے سے زیادہ مٹی ڈالکر بیج اس کے اوپر رکھ دیں اور پھر تھوڑی سی مٹی بیج کے اوپر ڈالکر ڈھک دیں۔ بیج بونے کے بعد انہیں روزانہ اسطرح پانی دیتے رہیں کہ بیجوں کے گرد مناسب نمی رہے لیکن وہ پانی میں ڈوبے نہ رہیں۔ یاد رہے کہ کپ میں مٹی بھرنے سے پہلے اس میں اچھی طرح سوراخ کرنے چاہیئں۔ تقریباً ہفتہ یا دس دن تک ننھے پودے نکل آئیں گے۔
مرچ منتقل کرنے کیلئے گملے کی تیاری:۔
گملوں میں مرچ یا دیگر کوئی بھی پودے اگانے کیلئے سب سے مناسب مٹی وہ ہے جس میں سے پانی آسانی سے گذر جائے۔ ایسی مٹی تیار کرنے کیلئے ایک حصہ ریت، ایک حصہ رسوبی مٹی اور ایک حصہ کمپوسٹ آپس میں ملائیں۔ اگر فقط ریت اور کمپوسٹ ملائیں تب بھی کوئی مضائقا نہیں۔ ریت کی جگہ اینٹوں کا برادہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گملے کے پیندے میں ایک مربع انچ یا اس سے بڑا سوراخ کرنا چاہئے۔ مرچ کو آپ ایک سے زیادہ دفعہ بھی ٹرانسپلانٹ کر سکتے ہیں جیسے چھوٹے کپ سے، بڑے کپ اور پھر گملے میں۔ اس کا انحصار موسم اور پودے کی سائیز پر بھی ہے۔ جب پودہ چھ انچ سے ایک فٹ کا ہوجائے تو اسے گملے میں منتقل کرنا چاہئے۔
گملوں میں مرچ یا دیگر کوئی بھی پودے اگانے کیلئے سب سے مناسب مٹی وہ ہے جس میں سے پانی آسانی سے گذر جائے۔ ایسی مٹی تیار کرنے کیلئے ایک حصہ ریت، ایک حصہ رسوبی مٹی اور ایک حصہ کمپوسٹ آپس میں ملائیں۔ اگر فقط ریت اور کمپوسٹ ملائیں تب بھی کوئی مضائقا نہیں۔ ریت کی جگہ اینٹوں کا برادہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گملے کے پیندے میں ایک مربع انچ یا اس سے بڑا سوراخ کرنا چاہئے۔ مرچ کو آپ ایک سے زیادہ دفعہ بھی ٹرانسپلانٹ کر سکتے ہیں جیسے چھوٹے کپ سے، بڑے کپ اور پھر گملے میں۔ اس کا انحصار موسم اور پودے کی سائیز پر بھی ہے۔ جب پودہ چھ انچ سے ایک فٹ کا ہوجائے تو اسے گملے میں منتقل کرنا چاہئے۔
پانی، کھاد اور موسمی ضروریات:۔
مرچ کے پودوں کو ٹماٹر کے مقابلے میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مرچ کا پودا گھر کے اندر سائے میں ہے تو ہر دوسرے یا تیسرے دن پانی دینا چاہئے لیکن جب پودا گملے میں اور مکمل دھوپ میں ہے تو اسے روزانہ یا کم از کم ہر دوسرے دن پانی دینا چاہئے۔
مرچ کے پودوں کو ٹماٹر کے مقابلے میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مرچ کا پودا گھر کے اندر سائے میں ہے تو ہر دوسرے یا تیسرے دن پانی دینا چاہئے لیکن جب پودا گملے میں اور مکمل دھوپ میں ہے تو اسے روزانہ یا کم از کم ہر دوسرے دن پانی دینا چاہئے۔
مرچ کا پودا جب چھوٹا ہو تو زیادہ نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے لیکن جب پھول آنے لگیں تو زیادہ پوٹاش اور فاسفورس والی کھاد دینی چاہیے۔ پودے جب زمین میں ہوتے ہیں تو اپنی غذائی ضروریات ارد گرد کی مٹی سے حاصل کرلیتے ہیں اسلئے انہیں کھاد کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی تاہم گملوں میں پودوں کو ہر ہفتے یا دس دن میں کھاد دینی چاہئے تاکہ پودے کی گروتھ اور پیداوار متاثر نہ ہو۔ چھوٹے پودوں کو چٹکی بھر جبکہ بڑے پودوں کو تقریباً ایک چمچ کھاد ہر دفعہ ڈالنی چاہئے۔ باغیچے میں بھی مرچ کو بضرورت کھاد ڈالنی چاہئے۔
مرچ کو مکمل دھوپ میں رکھیں اور جب مرچیں مناسب سائیز کی ہوجائیں تو انہیں توڑنا چاہئے تاکہ پودے کی انرجی نئی مرچوں پر صرف ہو۔ اضافی مرچوں کو ریفریجریٹر میں محفوظ کرلیں یا سکھا لیں۔
بیماریاں:۔
مرچ ایک سخت جان پودہ ہے اسلئے اسے بیماری کم ہی لگتی ہے اور ویسے بھی زرعی زمینوں یا باغیچوں سے دور لگائی گئی گھریلو سبزیوں کو بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم بیماری کی صورت میں گھریلو نسخے جیسے نیم کا عرق، مرچوں کا اسپرے وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر حشرات کا سامنا ہو تو انہیں پانی کے اسپرے یا ہاتھ سے پکڑ کر تلف کردینا چاہئے۔ اگر وائرس کا حملہ ہو تو پودے کو تلف کردینا چاہئے تاکہ وائرس دیگر پودوں تک نہ پھیلے۔
مرچ ایک سخت جان پودہ ہے اسلئے اسے بیماری کم ہی لگتی ہے اور ویسے بھی زرعی زمینوں یا باغیچوں سے دور لگائی گئی گھریلو سبزیوں کو بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم بیماری کی صورت میں گھریلو نسخے جیسے نیم کا عرق، مرچوں کا اسپرے وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر حشرات کا سامنا ہو تو انہیں پانی کے اسپرے یا ہاتھ سے پکڑ کر تلف کردینا چاہئے۔ اگر وائرس کا حملہ ہو تو پودے کو تلف کردینا چاہئے تاکہ وائرس دیگر پودوں تک نہ پھیلے۔


No comments:
Post a Comment