اپنے خاندان کی معاشی حالات کی بہتری میں
خواتین کو اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے
اگر آپ اپنے گھر یا فلیٹ کے ایک یا دو کمروں کو کاروبار کے لیۓ مختص کر لیں اور اس کے اندر روزمرہ کے استعمال کا منیاری کا سامان لا کر بھر دیں تو آپ اپنی گلی ، محلے , گاؤں ، قصبے یا شہر کی ان خواتین یا بچیوں کے لیۓ فرشتہ رحمت ثابت ہونگی جو بازار جا نہیں سکتیں یا جانا نہیں چاہتیں ۔ آپ بڑے شہروں سے تھوک سامان لا کر بازار سے کم قیمت پر یہ منیاری کا سامان بیچ سکتے ہیں کیونکہ نہ آپ نے دوکان کا کرایہ دینا ہے ، نہ ملازموں کی تنخواہیں ، خواتین ہی منیاری کے سامان کی 99۔99٪ خریدار ہوتی ہیں اور وہ خواتین سے ہی اشیاء خریدنے میں اطمینان یا ایزی محسوس کرتی ہیں جیسے میک اپ کا سامان یا زیر جامہ کپڑے ، سلائ کڑہائ کا سامن ، کپڑے دھونے کا صابن ، نہانے کا اور عورتوں کا مخصوص اور مخصوص دنوں کا سامان , سٹیشنری ، بچوں کے کپڑے، غرضیکہ جو بھی ایک منیاری کی دوکان پر سامان آب لا کر بیچ سکتی ہیں۔ یقین کریں کہ آپ کی سیل دنوں میں شہر یا قصبے کی کسی اچھی دوکان سے بھی زیادہ ہو جائیگی چونکہ اس سامان کی خریدار عورتیں ہیں اور وہ یہ چیزیں مردوں سے لینا پسند نہیں کرتیں پلس آپ کی قیمتیں بازار سے کم ہونگی اسمیں آپ ورائیٹی Variety زیادہ رکھیں اور Quantity تعداد بیشک کم ہو ، اپنے پڑوسیوں اپنے علاقے یا کسٹمرز کی قوت خرید کے حساب سے چیزوں کا معیار رکھیں کم بجٹ سے شروع کریں اور سیل کے منافع سے اپنی دوکان بڑی کرتے جائیں
مرد حضرات سامان کی خریداری میں اپنی خواتین کی مدد کریں
اسکے ساتھ ایک اورکاروبار شروع کیا جا سکتا ہے جب آپ اس بزنس میں کامیاب ہوگۓ تو پھر بتاؤں گا
نوٹ : میں نے حضرو کے نواح میں ایک بیوہ عورت کو اس کام کا کوئ 6 ماہ قبل مشورہ دیا تھا جسے کھانے کےلالے پڑے تھے، اس نے کچھ زیور بیچ کر یہ کام شروع کیا تھا آج الحمدوللہ وہ اپنی یتیم بیٹیوں کے لیۓ جہیز کا سامان اکٹھا کر رہی ہیں
سوچیے نہیں کیجیے


No comments:
Post a Comment